ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کسی دلت رہنما کو وزیراعلیٰ بنانے کی جرأت دکھائے: پرمیشور

بی جے پی کسی دلت رہنما کو وزیراعلیٰ بنانے کی جرأت دکھائے: پرمیشور

Sat, 05 May 2018 12:20:49    S.O. News Service

بنگلورو،4؍مئی(ایس او نیوز) کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے آج بی جے پی قیادت کو چیلنج کیا کہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کسی دلت رہنما کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کرے۔ وزیراعظم مودی کی طرف سے کل اپنی تقریر کے دوران 2013میں ملیکارجن کھرگے کو وزیراعلیٰ نہ بنائے جانے کے تذکرے کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ بی جے پی کو اگر دلتوں کی اتنی ہی فکر ہے تو بی جے پی کے دلت لیڈر کو وزیراعلیٰ بنانے کی جرأت دکھائے۔ایک طرف دلتوں سے ہمدردی کا ڈھنگ رچایا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے ریزرویشن کو ختم کرنے کے لئے سازش رچائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے کبھی درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے وابستہ لوگوں کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ان طبقات کو بڑھاوا دینے کے لئے کانگریس کی پابندی کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسی پابندی پر عمل کرتے ہوئے کانگریس نے ملیکارجن کھرگے کو لوک سبھا میں پارٹی کا رہنما مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم مودی اب اسی طرز پر دلتوں سے ہمدردی کرناچاہتے ہیں تو دلت فرقے سے آنے والے گووند کارجول کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کریں۔ انہو ں نے کہاکہ بی جے پی میں دلت طبقے کے بڑے لیڈر گووند کارجول کو بی جے پی عہدۂ وزیراعلیٰ کا دعویدار قرار دے اور بعد میں مودی کو کھرگے کو دئے گئے مقام اور مرتبے کے بارے میں کچھ بھی کہیں۔ انتخابات کے مرحلے میں اپنی فطرت کے مطابق مودی جھوٹ بول کر کرناٹک کے عوام کی توہین کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ 2014میں مودی نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ سارا کالادھن واپس لایا جائے گا۔ اور ہندوستان کے ہر شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے جمع کئے جائیں گے۔ یہ پیسے کہاں گئے؟ پھر بھی انتہائی بے شرمی سے مودی جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں۔ بنگلور کے متعلق مودی کی محبت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ جب سے مودی حکومت آئی ہے بنگلور کی ترقی کے لئے مودی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا، اسمارٹ سٹی منصوبے میں بنگلور شہر کو شامل کرنے کے معاملے میں بی جے پی مرکزی حکومت مسلسل تذبذب میں مبتلا ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ہندوستان جیسے عظیم ملک کے وزیر اعظم کو اپنانہیں تو کم از کم اپنے عہدے کا خیال رکھتے ہوئے جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ 


Share: